لندن 25مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) یورپی یونین کی تمام رکن ریاستوں میں ڈیٹا پروٹیکشن یا کوائف کے تحفظ کا نیا قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت شہریوں کے آن لائن کوائف کو تحفظ دیا گیا ہے ۔یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن پر یہ کہہ کر تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ اسپیم ای میلز اور پیغامات کے سیلاب کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور آن لائن کمپنیاں عام صارفین سے پوچھے بغیر ان کا نجی ڈیٹا استعمال کرتی ہیں اور دیگر کمپنیوں کو یہ ڈیٹا فروخت بھی کیا جاتا ہے۔ یورپ میں نجی کوائف کے تحفظ کے لیے ضوابط پر دو برس قبل اتفاق کیا گیا تھا تاہم مختلف کمپنیاں ان پر عمل درآمد میں سست روی کا شکار تھیں اور اسی لیے اس حوالے سے انہیں وقت دیا گیا تھا، تاہم رواں ہفتے ان ضوابط کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا گیا۔یورپی یونین کے یہ نئے کوائف اس لیے بھی اہم ہیں کہ عالمی سطح پر انہیں ایک طرح سے ’بینچ مارک‘ کے طور پر دیکھا جائے گا اور دیگر ممالک بھی انہی ضوابط کے تحت اپنے اپنے شہریوں کے کوائف کو تحفظ دے پائیں گے۔ فیس بک کے ڈیٹا شیئرنگ اسکینڈل کے تناظر میں یورپی یونین کے اس اقدام کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔یورپی یونین کی کمشنر برائے انصاف ویرا ڑورووا کے مطابق نئے ضوابط سے اب یورپی شہریوں کے پاس اپنے کوائف کے تحفظ کا اختیار آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نجی کوائف کا عالم یہ ہے کہ جیسے ’ایک حمام میں سب برہنہ‘ ہوں۔اس نئے قانون کے تحت یورپی ضوابط کی خلاف ورزی پر کسی بھی کمپنی کو 20 ملین یورو تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے یا اس کی عالمی سطح پر آمدنی کا چار فیصد اس سے واپس لیا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق یورپ میں قریب پانچ سو ملین افراد آن لائن مارکیٹ کا حصہ ہیں۔اس نئے قانون کے مطابق ہر آن لائن کمپنی کو کسی بھی صارف کا ڈیٹا حاصل کرنے یا اسے استعمال کرنے کے لیے متعلقہ صارف سے اجازت لینا ہو گی اور صارف کی اجازت کے ساتھ ہی وہ ڈیٹا استعمال یا شیئر کیا جا سکے گا۔ان نئے ضوابط کے تحت صارفین کو ‘جاننے کا حق‘ بھی تفویض کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ معلوم کر سکیں گے کہ ان کے کوائف کہاں اور کن مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس طرح ان صارفین کو اپنے کوائف کے تجارتی استعمال کو روکنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ اسی طرح ان ضوابط میں ’بھلانے کا حق‘ بھی صارفین کو دیا گیا ہے، جس کے تحت کوئی صارف کسی آن لائن کمپنی سے اپنے کوائف یا دیگر معلومات کو ڈیلیٹ کرنے کے لیے بھی کہہ سکتا ہے۔ان ضوابط کے تحت مختلف رکن ریاستوں کو کہا گیا ہے کہ وہ 13 تا 16 برس کی عمروں کے صارفین کے حوالے سے اپنے اپنے طور پر فیصلے کریں کہ کس عمر تک کے نابالغ افراد کے ڈیٹا کے استعمال کے لیے ان کے والدین کی رضامندی حاصل کرنا لازمی ہو گا۔گزشتہ منگل کو فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے یورپی پارلیمان کی ایک سماعت میں بھی شرکت کی تھی، جس میں انہوں نے 87 ملین فیس بک صارفین کے ڈیٹا کے عدم تحفظ کے معاملے پر بات کی تھی۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ فیس بک کے پاس ایسے شواہد نہیں ہیں کہ یورپی شہریوں کے کوائف کسی کمپنی کو فروخت کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیس بک یورپی ضوابط کی مکمل طور پر پاس داری کرے گی۔ انہوں نے کیمبرج اَینے لیٹیکا کے معاملے میں یورپی شہریوں کے کوائف کے عدم تحفظ پر ’معذرت‘ بھی کی تھی۔یورپی یونین کے ان نئے ضوابط پر فیس بک، وٹس ایپ اور ٹوئٹر جیسے بڑے پلیٹ فارمز نے عمل درآمد کا آغاز بھی کر دیا ہے۔